facebook like button tweeter button feedback button

ماہرین کا پاکستان میں غیر متعدی بیماریوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے فوری نفاذ پر زور

image_pdfimage_print

اسلام آباد، 29 مئی 2025 — وفاقی اور صوبائی صحت و خوراک کے محکموں کے اعلیٰ حکام، صحت اور پالیسی ماہرین، سول سوسائٹی تنظیمیں، خوراک کے نگران ادارے، غذائیت کے فروغ کے لیے سرگرم افراد، اور ماہرین تعلیم آج اسلام آباد میں ایک قومی مشاورتی اجلاس میں جمع ہوئے۔ اس مشاورت کا مقصد پیک شدہ خوراک کی اشیاء پر فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز (FOPWL) کے نفاذ کو آگے بڑھانا تھا—یہ ایک سائنسی بنیاد پر مبنی اقدام ہے جو پاکستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی غیر متعدی بیماریوں (NCDs) جیسے کہ ذیابیطس، دل کی بیماریوں ، موٹاپے اور بلند فشار خون سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے۔

یہ اجلاس معروف عوامی صحت کی تنظیموں، ہارٹ فائل اور پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (PANAH) نے مشترکہ طور پر منعقد کیا، جو خوراک اور صحت کی پالیسیوں میں اصلاحات کے سلسلے میں حکومت کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ اجلاس کے آغاز میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ایک سنگین صحت اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے، جس کی بڑی وجہ خوراک سے جڑی بیماریوں میں بے قابو اضافہ ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، پاکستان میں 60 فیصد سے زائد اموات کی وجہ غیر متعدی بیماریاں ہیں، جن کی بنیادی وجہ غیر صحت مند غذائی عادات، خصوصاً چینی ، نمک، سیچوریٹڈ اور ٹرانس فیٹس سے بھرپور الٹرا پراسیسڈ خوراک کی زیادتی ہے۔

شرکاء نے اس بات کو اجاگر کیا کہ روایتی پیک کے پچھلے حصے پر موجود غذائیت کے لیبلز عام صارفین کے لیے پیچیدہ اور ناقابلِ فہم ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز—سادہ سیاہ رنگ کے واضح انتباہی نشانات—ایک عالمی سطح پر تجویز کردہ طریقہ ہیں، جو صارفین کو آسانی سے نقصان دہ اجزاء کی حامل اشیاء کی پہچان میں مدد دیتے ہیں۔ ان لیبلز کا کامیاب نفاذ چلی، میکسیکو اور برازیل جیسے ممالک میں پہلے ہی دیکھنے میں آ چکا ہے، جہاں ان سے غیر صحت بخش خوراک کے استعمال میں کمی اور مصنوعات کی ازسر نو تیاری جیسے مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر صبا امجد (ہارٹ فائل)، جناب ثناء اللہ گھمن (PANAH)، اور دیگر نمایاں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں FOPWL کے نفاذ کے لیے ایک سائنسی بنیادوں پر تیار کردہ نیوٹرینٹ پروفائل ماڈل (NPM) کا ہونا ضروری ہے تاکہ یہ معروضی طور پر طے کیا جا سکے کہ کن مصنوعات پر انتباہی لیبلز لگانے کی ضرورت ہے۔ کئی ممالک میں اس ماڈل کے مؤثر استعمال سے بین الاقوامی معیار کے مطابق پالیسی سازی ممکن ہوئی ہے۔

مقررین نے الٹرا پراسیسڈ خوراک کی بڑھتی ہوئی کھپت اور اس سے جڑے امراض و معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے جامع پالیسی پیکیج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ پینلسٹ نے فوری اقدامات کی سفارش کی جن میں FOPWL کا نفاذ، مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ان اشیاء پر ایکسائز ٹیکس میں اضافہ، بچوں کو نشانہ بنانے والی مارکیٹنگ کی ممانعت، اور ان اشیاء کو عوامی اداروں خصوصاً اسکولوں سے دور رکھنا شامل تھا۔

اجلاس میں حکومت کے حالیہ اقدامات کو بھی سراہا گیا، جن میں وزارتِ قومی صحت نے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی (MoST) کو باقاعدہ طور پر FOPWL کے ضوابط کے لیے تجویز پیش کی ہے۔ صوبائی فوڈ اتھارٹیز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے اس تجویز کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

شرکاء نے ذیل کے نکات پر مشتمل ہمہ جہت حکمت عملی اپنانے پر زور دیا:

منسٹری آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی( Mo)ST اور پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے ساتھ مل کر لازمی FOPWL ضوابط کی تیاری اور ان کے نفاذ کے لیے تعاون۔
عوامی سطح پر آگاہی مہمات کا آغاز۔
عمل درآمد کی نگرانی اور نفاذ کے بعد صحتِ عامہ کے اثرات کا جائزہ۔
مشاورت اختتام پذیر ہوئی تو تمام شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ FOPWL ایک کم لاگت مگر مؤثر اقدام ہے، جو غیر متعدی امراض کے پھیلاؤ کو کم کرنے، صحت کے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے، اور صارفین کو گمراہ کن خوراک سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔